ہر اس عاقل، بالغ مسلمان پر جس کی ملکیت میں بنیادی ضروریات سے زائد مالِ نصاب ہو اور اس پر ایک سال گزر چکا ہو۔
جمہور علمائے احناف کے نزدیک سونا اور چاندی خواہ استعمال میں ہوں یا نہ ہوں، نصاب تک پہنچنے پر ان پر زکوٰۃ فرض ہے۔
اگر کوئی پلاٹ یا مکان بیچ کر منافع کمانے کی نیت (مالِ تجارت) سے خریدا گیا ہو تو اس کی موجودہ بازاری قیمت پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اگر رہائش یا کرایہ کے لیے ہو تو اس کی اصل قیمت پر زکوٰۃ نہیں۔
جو رقم کسی کو قرض دی ہو اور اس کی واپسی کی امید ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہے، وصولی کے بعد پچھلے سالوں کی بھی ادا کی جا سکتی ہے۔